ایک عرب ملک کی سربراہی میں39 ممالک کااتحادفرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھائے گا ،الطاف حسین



متحدہ قومی موومنٹ(پاکستان) کے قائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ ایک عرب ملک کی سربراہی میں 39 ممالک کااتحادفرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھائے گا ، سندھ کے شہری علاقوں میں ایک مرتبہ پھر شیعہ سنی فسادات کی سازش کی جارہی ہے ۔انہوں نے تمام مکاتب فکرسے تعلق رکھنے والے افراد پر زوردیا کہ وہ فرقہ وارانہ فسادات کی سازشوں کو سمجھیں اورماضی کی طرح شیعہ سنی اتحادکامظاہرہ کرتے ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کوناکام بنادیں۔ یہ بات انہوں نے حیدرآباد میں ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اوربچیوں کے اجلاس سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کہی ۔ اجلاس میں مختلف تعلیمی اداروں سے تعلق رکھنے والی طالبات بھی بڑی تعداد میں شریک تھیں، اس موقع پر خواتین کارکنان کاجوش وخروش قابل دید تھا۔ 

اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم مذہبی رواداری اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کیلئے عملی جدوجہد کرتی رہی ہے اور ایم کیوایم نے فرقہ وارانہ فسادات کے خاتمہ کیلئے ناقابل فراموش کردار ادا کیاہے ۔سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ایک عرب ملک کی سربراہی میں 39 ممالک کے اتحاد کا سرداربننے کی نوکری قبول کی تو میں نے کھلم کھلا اس کی مخالفت کی اور خبردار کیاکہ یہ اتحاد شیعہ سنی عوام کو تقسیم کرکے آپس میں لڑانے کیلئے بنایاگیا ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ شیعہ اور سنی دونوں اہل بیعت اور امام عالی مقام ؑ کے ماننے والے ہیں ، ان کے درمیان کوئی جھگڑا نہیں ہے اور عوام دشمن قوتیں شیعہ سنی اتحاد کو ناکام بنانے اور فرقہ وارانہ فسادات کی سازش کررہی ہیں لہٰذا شیعہ اورسنی عوام فرقہ وارانہ فسادات کی سازشوں سے ہوشیار رہیں ، آپس میں اتحاد قائم رکھیں اور شیعہ سنی فسادات کی سازش کو ناکام بنائیں۔ انہوں نے کہاکہ میں حسینیت ؑ پر یقین رکھتا ہوں اورمیری چاہنے والی مائیں ، بہنیں ، بیٹیاں ،بزرگ اوربھائی شیعہ سنی فسادات کرانے کی سازش میں کبھی شریک نہیں ہوں گی ۔ انہوں نے کہاکہ کراچی میں شیعہ سنی عوام کی ٹارگٹ کلنگ میں ایجنسیاں اوران کے ایجنٹ ملوث ہیں کیونکہ پاکستان کی فوج ،طالبان بن چکی ہے اورطالبان دہشت گردوں کی سرپرستی کررہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ الطاف حسین نے اپنے پیارے ساتھیوں کی مسخ شدہ لاشیں دیکھ کر ’’مردہ باد‘‘ کا نعرہ لگایا پھر باربار معافیاں بھی مانگیں لیکن الطاف حسین کو معاف نہیں کیاگیا جبکہ 80 ہزار 

2

فوجیوں اورسویلین کے قتل کا اعتراف کرنے والے احسان اللہ احسان کو ٹیلی ویژن پر ہیروبناکر پیش کیاجارہا ہے ۔ اگرمہاجرخواتین سڑکوں پر آکر قرآن خوانی کریں یا جلسہ جلوس کریں تو انہیں لاٹھیوں سے تشددکا نشانہ بنایاجاتا ہے جبکہ چرچ پر خودکش حملہ کرنے والی نورین لغاری کو قوم کی بیٹی قراردیاجاتا ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ سانحہ قصبہ علیگڑھ ، سانحہ30 ستمبر حیدرآباد اور سانحہ پکاقلعہ کے قاتل آج تک قانون کی گرفت سے محفوظ ہیں جبکہ ہرواقعہ میں ایم کیوایم کو ملوث کرکے مہاجروں پر ظلم وستم کی انتہاء کردی جاتی ہے ۔ گزشتہ دنوں لندن کے ہیتھروائیرپورٹ میں پی آئی اے کے طیارے سے ہیروئن برآمد 

ہوئی تو اس کا الزام بھی ایم کیوایم پر لگادیاگیا۔انہوں نے کہاکہ میں ایسے ظالمانہ معاشرے میں رہنانہیں چاہتا ، ہمارے بزرگوں نے ایسے ظالمانہ معاشرے کیلئے 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ نہیں دیاتھا۔انہوں نے کہاکہ تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود حقوق کی جدوجہد جاری رہے گی ، ماورائے عدالت قتل ، چھاپے گرفتاریوں اوردھونس دھمکی سے مہاجروں کو حقوق کی جدوجہد سے باز نہیں رکھاجاسکتا۔ جناب الطاف حسین نے تمام ترمصائب ومشکلات کے باوجود ہمت وجرات سے تحریکی جدوجہد جاری رکھنے والی ماؤں ، بہنوں ، بیٹیوں اورطالبات کو زبردست خراج تحسین اورشاباش پیش کی۔