کراچی میں بلاجواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ایم کیو ایم کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کیلئے 23 جولائی 2016ء کو ’’وائٹ ہاؤس‘‘ کے سامنے پنسلوانیا اسٹریٹ پر ایک بڑا مظاہرہ کیا
کراچی میں بلاجواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل، جبری گمشدگیوں اور ایم کیو ایم کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کیلئے 23 جولائی 2016ء کو ’’وائٹ ہاؤس‘‘ کے سامنے پنسلوانیا اسٹریٹ پر ایک بڑا مظاہرہ کیا جائیگا۔ ایم کیوایم امریکہ 
مظاہرہ میں ایم کیو ایم امریکہ کی آرگنائزنگ کمیٹی کے اراکین، ذمہ داران، کارکنان سمیت امریکہ کی مختلف ریاستوں میں 
مقیم پاکستانی کمیونٹی بڑی تعداد میں شرکت کرے گی۔ 
دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے نام پر شروع کیا جانے والا آپریشن کئی برس گزرنے کے باوجود اپنے بنیادی مقاصد 
حاصل کرنے میں ناکام ہے۔
واشنگٹن ۔۔۔ 03، جولائی 2016ء
ایم کیو ایم امریکہ کی جانب سے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق کراچی میں جاری آپریشن کے دوران مہاجروں کی بلاجواز گرفتاریوں، ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیوں اور مہاجروں کی نمائندہ جماعت متحدہ قومی موومنٹ کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر غیر اعلانیہ پابندیوں کی جانب عالمی برادری کی توجہ مبذول کرانے کیلئے ایم کیوا یم امریکہ کے زیر اہتمام مؤرخہ 23 جولائی 2016ء کو ’’واٹ ہاؤس‘‘ کے سامنے پنسلوانیا اسٹریٹ پر ایک بڑا مظاہرہ کیا جائیگا۔ مظاہرے کے حوالے سے انتظامات کو حتمی شکل دی جارہی ہے جس میں ایم کیو ایم امریکہ آرگنائزیشن کمیٹی کے اراکین، ذمہ داران، کارکنان سمیت امریکہ کی مختلف ریاستوں میں مقیم پاکستانی کمیونٹی بڑی تعداد میں شرکت کرے گی۔ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ کراچی سے دہشتگردوں، گینگ وار کارندوں ا ور ڈکیتوں کے خاتمے اور کراچی کے شہریوں کو تحفظ فراہم کرنے کیلئے ایم کیوا یم نے خود ایک بلاتفریق آپریشن کا مطالبہ کیا تھا لیکن 92ء کی طرح ایک بار پھر آپریشن کا رُخ ایم کیوا یم کی جانب موڑ دیا گیا اور جرائم پیشہ افراد کو فری ہینڈ دے دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی چوتھی بڑی سیاسی جماعت ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین کے بیانات، تقاریر اور تصور کی نشر اور اشاعت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے اور ساتھ ہی ایم کیو ایم کی سیاسی و فلاحی سرگرمیوں پر بھی غیراعلانیہ پابندی عائد کرکے کام کرنے سے روکا جارہا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی اور جرائم پیشہ عناصر کی بیخ کنی کے نام پر شروع کیا جانے والا آپریشن کئی برس گزرنے کے باوجود اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام ہے۔ آج بھی کراچی میں ڈاکٹروں، اساتذہ، ججز، فنکاروں سمیت کراچی کا کوئی بھی شہری محفوظ نہیں اور بے گناہ انسانوں کی ہلاکت، اغوا اور جبری گمشدگیاں آئے روزکا معمول ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقامی حکومتوں کے انتخابات کو آٹھ ماہ سے زائد عرصہ گزر چکا ہے مگر حکومت منتخب عوامی نمائندوں کو اختیارات دینے کو تیار نہیں جوکہ شہر کراچی کے عوام کے ووٹوں کی تذلیل کے مترادف ہے، جس کے باعث پاکستان کے معاشی دارلخلافہ کراچی کے عوام میں شدید احساس محرومی و احساس بیگانگی بڑھ رہا ہے۔ مظاہرے کے موقع پر امریکا میں مقیم مہاجر پاکستانی کمیونٹی کی جانب سے وائٹ ہاؤس، انسانی حقوق کے عالمی اداروں ا ور قومی و بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کو کراچی میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے حوالے سے احتجاجی پٹیشن، دستاویزی ثبوت اور ویڈیوز بھی فراہم کریں گے۔